19 جولائی 2026 - 17:27
امریکی ڈاکٹروں نے پینٹاگون کے فوجیوں کے لیے ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ منصوبے پر شکوک ظاہر کر دیے

متعدد طبی ماہرین نے امریکی وزیرِ دفاع کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کے تحت 30 سال سے زائد عمر کے تمام فوجیوں کا سالانہ ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے جنگی صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے کافی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگست نے گزشتہ ہفتے حکم دیا تھا کہ 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام فعال فوجیوں اور ریزرو اہلکاروں میں سالانہ بنیاد پر ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی جانچ کی جائے۔

پیٹ ہیگست نے اس منصوبے کا مقصد فوجی تیاری، جسمانی برداشت اور مسلح افواج کی کارکردگی میں بہتری قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر کسی فوجی کو علاج کی ضرورت ہوئی تو یہ عمل رضاکارانہ بنیادوں پر انجام دیا جائے گا۔

تاہم، خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرنے والے مردوں کی صحت کے چھ ماہرین میں سے پانچ نے اس فیصلے کو ناکافی سائنسی بنیادوں پر مبنی قرار دیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ غیر ضروری طور پر ٹیسٹوسٹیرون کا استعمال بانجھ پن، خون کے گاڑھا ہونے، پروسٹیٹ کے مسائل، مہاسوں، بالوں کے جھڑنے اور مزاج میں اتار چڑھاؤ جیسے مضر اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے زور دیا کہ امریکی طبی رہنما اصولوں کے مطابق ٹیسٹوسٹیرون تھراپی صرف ان افراد کے لیے تجویز کی جاتی ہے جن میں اس ہارمون کی واضح کمی کے ساتھ مخصوص طبی علامات بھی موجود ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف 30 سال کی عمر تک پہنچ جانا تمام افراد کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کی عمومی جانچ کا کافی جواز نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha